تندولکر اور لتا کا مذاق اڑانے پر ہنگامہ

Wed 1st Jun, 2016 Author: Cricketnmore Editorial

Tendulkar

انڈیا میں پولیس نے معروف کرکٹر سچن تندولکر اور گلوکارہ لتا منگیشکر کا مذاق اڑانے والی ویڈیو بنانے والے سٹینڈ اپ کامیڈین تنمئے بھٹ کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

تمنئے بھٹ نے اس ویڈیو میں سنیپ چیٹ کی چہرہ بدلنے والی سہولتوں کا استعمال کرتے ہوئے ان دونوں معروف شخصیتوں کے درمیان ایک مباحثہ پیش کیا ہے۔

٭ ’سچن کو نہیں جانتے؟‘ بھارتی برہم

ویڈیو میں تندولکر کے روپ میں بھٹ کہتے ہیں کہ لتا منگیشکر پانچ ہزار سال کی ہیں اور ان کا چہرہ ایسا نظر آتا ہے جیسے آٹھ دنوں سے پانی میں رکھا گيا ہو۔

قوم پرست ہندو جماعت شیو سینا اور مہاراشٹر نونرمان سینا نے اس ویڈیو پر پولیس میں درخواست دی ہے اور تنمئے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ شیو سینا نے مہاراشٹر کے وزیر اعلی کو ایک خط لکھا ہے جس میں بھٹ کی پراگندہ ذہنیت کی شکایت کی ہے۔

ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں قانونی چارہ جوئي کے لیے صلاح و مشورہ کر رہی ہے تاکہ تنمئے پر مقدمہ قائم کیا جا سکے۔ بہرحال انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ مقدمہ کس بنیاد پر قائم کیا جائے گا۔نمئے کو واضح طور پر اندازہ تھا کہ اس ویڈیو پر رد عمل ہوگا اس لیے انھوں نے اسے جاری کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا کہ کل جب آپ لوگ ہمارے بارے میں بات کریں تو میرا سنیپ چیٹ آئی ڈی کا استعمال ضرور کریں۔ یہ آئي ڈی دا تنمئے ہے۔

اس کے بعد انھوں نے سنیپ چیٹ کو ٹویٹ میں کہا کہ مجھے میری رقم ادا کر دیں۔

تنمئے انڈیا کے کامیڈی گروپ اے آئي بی کا حصہ ہیں اور اس سے قبل انھیں یو ٹیوب سے اپنا روسٹ شو ہٹانا پڑا تھا۔

سوشل میڈیا پر جاری اس ویڈیو نے گرما گرم بحث چھیڑ دی اور ٹوئٹر پر تنمئے بھٹ کا نام پیر کو تقریباً دن بھر سر فہرست رہا اور لوگوں کی آرا منقسم رہی جبکہ بہت سے لوگوں نے اظہار خیال کی آزادی کی حدیں پار کیں۔اداکار انوپم کھیر نے ٹویٹ کیا: ’مجھے نو بار بہترین مزاحیہ اداکار کا ایوارڈ ملا ہے. میرے اندر بھی مزاح کی سمجھ ہے۔ یہ مزاحیہ نہیں ہے۔ مکروہ اور غیر مہذب ہے۔‘

کمال خان نے ٹویٹ کیا: ’میں نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ وہ کامیڈی کے نام پر عظیم اورمعمر لوگوں کی توہین کیوں کر رہے ہیں۔‘

سیلینا جیٹلی نے لکھا کہ ’حیران اور ششدر ہوں۔ انھیں لتا جی سے معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔‘

جبکہ اداکار رتیش دیش مکھ نے ٹویٹ کیا: ’میں حیران ہوں۔ توہین نہ قابل قبول ہے اور نہ ہی یہ مزاح ہے۔‘خیال رہے کہ انڈیا میں لوگ مقبول اور قومی ہیروز کے بارے میں بہت حساس ہیں۔

گذشتہ سال برٹش ایئرویز کو سچن سے ان کا پورا نام پوچھنے پر جو رد عمل سامنے آيا تھا اس کے نتیجے میں فضائی کمپنی کو معافی مانگنی پڑی تھی۔

اسی طرح اس سے قبل ٹینس سٹار کھلاڑی ماریا شراپووا کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ اس لیے بنایا گیا تھا کہ انھوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ انھیں پتہ نہیں کہ سچن تندولکر کون ہیں۔


Source - ANN News